عاصمہ جہانگیر کا خلا کوئی پُر نہیںکرسکتا، پہلی برسی پر مقررین کا زبردست خراج تحسین

لاہور(نمائندہ جنگ) انسانی حقوق کے لیے سرگرم اور آمرانہ ذہنیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی پہلی برسی منائی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ بار میں اس حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں جس میں سویڈش سفیر انگرڈ جانسن، یورپین یونین کی نمائندہ جویریہ کبانی ،لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہرام سرور، جسٹس فیصل زمان، جسٹس شمس مرزا اور جسٹس شاہد جمیل اوروکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی، شرکاء نے عاصمہ جہانگیر کوزبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاشرکاء نے کہا عاصمہ جہانگیر اپنے کردار سے زندہ ہیں،جب تک حقوق کی بات ہوتی رہے گی عاصمہ کو یاد رکھا جائے گا سویڈن کی سفیر انگرڈ جوہانسن نے کہا ہےکہ عاصمہ جہانگیر کی خدمات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لئےان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی، عاصمہ جہانگیر کے کام کو دنیا بھر میں پذیرائی ملکی۔ انھوں نےآئین اور جمہوریت، انسانی حقوق کے لئے سخت محنت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عدالت عالیہ لاہور کےجسٹس علی باقر نجفی نے کہا عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کے لئے دن رات کام کیاعاصمہ جہانگیر کی صاحبزادیوں منیزہ جہانگیراور سیلیمہ جہانگیرنے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا خلاء کوئی پر نہیں کر سکتا، اگروہ ہوتیں تو ماورائے عدالت ہونے والے قتل اور زیادتیوں پر آواز اٹھاتیں،انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے سب سے زیادہ وقت وکلاء کے ساتھ گزارا،انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی جدوجہد کی اور پھر ڈٹی رہیں،وہ چاہتی تھیں کہ وکلا کی سیاست اصولوں پر کھڑی رہے، تقریب سے آ ئی اے رحمن، احسن بھون، احسان وائیں ،عااُن کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر محروم طبقوں کی آواز تھیں۔ محترمہ کی ذات کا حسن ہے کہ تمام شعبہ زندگی کے نمائندے تقریب میں موجود ہیں،شرکاء کا کہنا تھا وہ چھوٹے جسم کے ساتھ پہاڑوں سے بلند حوصلے رکھتی تھیں، عاصمہ جہانگیر اپنے کردار سے زندہ ہیں،جب تک حقوق کی بات ہوتی رہے گی عاصمہ کو یاد رکھا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آرسی پی) نے عاصمہ جہانگیر کی برسی پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے انتقال سے ہونے والا نقصان ایک برس بعد بھی کم نہیں ہو سکا۔